اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۴ میں خیال
Posted: Thu Oct 23, 2025 5:52 pm
قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۴ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے
نکلے ترے فریب سے تیرے حصار سے
ہم نے وفا کے نام پہ جان اپنی وار دی
محروم پھر بھی ہیں ترے ہم اعتبار سے
دی جگہ دل میں تجھ کو لگایا جو تجھ سے دل
بے اختیار ہو گئے ہر اختیار سے
موسم کوئی بھی ہو ہمیں اس سے نہیں غَرَض
دل میں کھلیں گے پھول تو دل کی بہار سے
کہتے ہیں زندگی تو فقط چار دن کی ہے
دو آرزو سے ہے جڑی دو انتظار سے
آئے گی موت زندگی کے اختتام پر
ہے کون جو بچے گا کبھی اس کے وار سے
ہم سے وہ نفرتوں کا ہیں اظہار کر رہے
ہم جن کو دیکھتے ہیں محبت سے پیار سے
رب کو بُھلا کے کس طرح سے تُو بتا خیالؔ
کوئی گزارے زندگی چین و قرار سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ