اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۱ میں خیال

Tarhi Moshaairah -ShoAaraa aur Shayeraat kii TabAaazmayi ke liye

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۱ میں خیال

Post by ismail ajaz »





قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۱ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا

عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظر سے مارتا کوئی نہیں ہے
کہ ہم کو جانتا کوئی نہیں ہے

ہیں میرے نام سے واقف سبھی پر
مجھے پہچانتا کوئی نہیں ہے

تعارف ہے سبھی سے آج میرا
تو پھر کیوں جانتا کوئی نہیں ہے

نظراک دوسرے پر رکھ کے اپنا
گریباں جھانکتا کوئی نہیں ہے

اگر ہیں پارسا سب لوگ پھرکیوں
شرافت بانٹتا کوئی نہیں ہے

یہ ہم ہیں جو کہ تم سے ہارتے ہیں
یہ بات اب جانتا کوئی نہیں ہے

ہمیں تم سے محبت ہے وگرنہ
ہمیں یوں ڈانٹتا کوئی نہیں ہے

خیالؔ اب تو تمہیں خود ہے سنبھلنا
کہ بڑھ کر تھامتا کوئی نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ

Attachments
ہمیں یوں ڈانٹتا کوئی نہیں ہے.gif
ہمیں یوں ڈانٹتا کوئی نہیں ہے.gif (331.46 KiB) Viewed 232251 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply