Page 1 of 1

اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۱ میں خیال

Posted: Fri Oct 24, 2025 9:00 pm
by ismail ajaz




قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۱ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا

عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظر سے مارتا کوئی نہیں ہے
کہ ہم کو جانتا کوئی نہیں ہے

ہیں میرے نام سے واقف سبھی پر
مجھے پہچانتا کوئی نہیں ہے

تعارف ہے سبھی سے آج میرا
تو پھر کیوں جانتا کوئی نہیں ہے

نظراک دوسرے پر رکھ کے اپنا
گریباں جھانکتا کوئی نہیں ہے

اگر ہیں پارسا سب لوگ پھرکیوں
شرافت بانٹتا کوئی نہیں ہے

یہ ہم ہیں جو کہ تم سے ہارتے ہیں
یہ بات اب جانتا کوئی نہیں ہے

ہمیں تم سے محبت ہے وگرنہ
ہمیں یوں ڈانٹتا کوئی نہیں ہے

خیالؔ اب تو تمہیں خود ہے سنبھلنا
کہ بڑھ کر تھامتا کوئی نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ