غَزل
دُھوپ سے بَیر ہے دیوار سے وحشت ہے مجھے
اپنے بڑھتے ہوۓ معیار سے وحشت ہے مجھے
روز اِس راہ سے چُپ چاپ گزر جاتا ہوں!
آج بھی رونقِ بازار سے وحشت ہے مجھے،
...درد بڑھ جاتا ہے اپنوں کی توجّہ کے سَبب
دوستو! پُرسشِ آزار سے وحشت ہے مجھے
بے محبت ہوں، مَیں آرام طلب ہوں لیکن!
میر جی سایۂ دیوار سے وحشت ہے مجھے
روز آ جاتا ہے اِک تازہ فسانہ لے کر ۔۔۔!!
شیخ صاحب کے پرستار سے وحشت ہے مجھے
شاعری سے کوییٔ مختار کو جا کر روکے!!
اس کے بے ساختہ اشعار سے وحشت ہے مجھے
محمد مختار علی (جدّہ)
